ڈی ایچ اے لاہور میں ڈاکو راج: ایک ہی رات میں 3 وارداتیں، ہائی الرٹ سیکیورٹی اور سی سی ٹی وی کیمرے بے اثر
لاہور کا پوش اور انتہائی محفوظ سمجھا جانے والا علاقہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) ان دنوں جرائم پیشہ افراد کی آسان آماجگاہ بن چکا ہے۔ سخت ترین چیک پوسٹوں، جگہ جگہ نصب سی سی ٹی وی کیمروں اور 24 گھنٹے گشت کرنے والی سیکیورٹی کے دعووں کے باوجود، گزشتہ رات ڈی ایچ اے میں مسلح ڈاکوؤں نے بیک وقت 3 مختلف وارداتیں کر کے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔
اسلحے کے زور پر لوٹ مار اور لاکھوں کا نقصان
مسلح ڈاکوؤں نے شہریوں کو یرغمال بنا کر دیدہ دلیری کے ساتھ ڈاکہ ڈالا۔ ان وارداتوں میں سب سے بڑا نقصان ایک شہری کا ہوا، جسے لوٹنے والے ڈاکو قیمتی سامان سمیت باآسانی فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
شہری سے لوٹا گیا سامان:
موبائل فون: آئی فون 17 پرو میکس (iPhone 17 Pro Max)
سونے کے زیورات: تقریباً 2.25 تولہ وزنی سونے کی چین
نقدی: 5 لاکھ 65 ہزار روپے کی خطیر رقم
سیکیورٹی اور کیمرے کہاں ہیں؟
ڈی ایچ اے لاہور کے رہائشی انتظامیہ کو خطیر رقم مینٹیننس اور سیکیورٹی فیس کی مد میں ادا کرتے ہیں، لیکن ایک ہی رات میں تین وارداتوں نے سیکیورٹی کے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ جدید کیمروں کے نیچے اور سیکیورٹی چیکس کے ہوتے ہوئے مسلح افراد کا اتنے آرام سے داخل ہونا، لوٹ مار کرنا اور غائب ہو جانا انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی پر گہرا دھچکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گلی کوچوں میں سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی کے باوجود اب دن دہاڑے اور رات کے وقت بھی باہر نکلنا محفوظ نہیں رہا۔
شہریوں کا سخت اقدامات کا مطالبہ
واقعات کے بعد متاثرہ شہریوں نے پولیس کو اندراجِ مقدمہ کی درخواستیں دے دی ہیں، تاہم تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ڈی ایچ اے کے رہائشیوں نے اعلیٰ پولیس حکام اور ڈی ایچ اے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
نائٹ پیٹرولنگ کو مزید مؤثر اور تیز کیا جائے۔
تمام انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور چیکنگ سخت کی جائے۔
ملوث گینگ کو فوری گرفتار کر کے شہریوں کا لوٹا ہوا مال برآمد کروایا جائے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں